باجوڑ (پاک ٹوڈے): قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجر برادری نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کرنے اور ضرورت پڑنے پر ملک گیر ہڑتال کی اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
باجوڑ پریس کلب میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر لعلی شاہ پختونیار، ہیڈکوارٹر خار بازار کے صدر واجد علی شاہ اور دیگر تاجر تنظیموں کے عہدیداران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹیکس کے نفاذ کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ پریس کانفرنس میں ماربل ایسوسی ایشن، برف خانوں کے مالکان سمیت مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندوں اور تاجر برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تاجر رہنماؤں نے کہا کہ قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کا نفاذ کاروباری طبقے کے لیے ناقابل قبول ہے اور اس فیصلے کے خلاف تاجر برادری ہر ممکن قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرے گی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن کے تاجر پہلے ہی دہشتگردی، بدامنی اور خراب معاشی حالات کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ان حالات میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ کاروباری طبقے پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردی سے متاثرہ قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن کے موجودہ حالات، کاروباری مشکلات اور علاقے کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس کے نفاذ کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور اسے واپس لیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکس کا نفاذ واپس نہ لیا گیا تو تاجر برادری احتجاجی تحریک شروع کرے گی، جس کا دائرہ مرحلہ وار وسیع کیا جائے گا۔ تاجر رہنماؤں کے مطابق مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ملک بھر کے تاجروں سے بھی رابطہ کیا جائے گا اور ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی جائے گی۔
