تہران (پاک ٹوڈے): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان تعاون تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور دونوں ممالک نے ماضی میں کبھی اتنے قریبی تعلقات کے ساتھ مل کر کام نہیں کیا۔
عباس عراقچی نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جاری ہے اور روس تنازع کے حل کے لیے ثالثی کے ذریعے سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے پیر کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد لاوروف کا یہ ایران کا پہلا دورہ تھا۔ ملاقات میں علاقائی صورت حال اور دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عباس عراقچی کے مطابق ملاقات میں یورپ سے مغربی ایشیا تک مختلف معاملات زیرِ بحث آئے، جن میں لبنان، فلسطین، یوکرین اور یمن کی صورت حال شامل تھی۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی اور جوہری شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔
ایران اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کو خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ روس مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں ثالثی کے ذریعے سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران اور ماسکو مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم ملاقات کے بعد کسی نئے اقتصادی یا جوہری معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ عراقچی کے بیان میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
