استنبول میں 80 سالہ بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، سیلاب سے 3 افراد ہلاک، 5 لاپتا

استنبول (پاک ٹوڈے): ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں غیر معمولی موسلادھار بارش کے باعث شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 5 لاپتا ہوگئے۔ بارش نے گزشتہ 80 برس کا ریکارڈ توڑ دیا، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

حکام کے مطابق بدھ کی صبح شروع ہونے والی بارش دن بھر جاری رہی اور اس کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ استنبول کے گورنر داؤد گل نے بتایا کہ 1942 میں بارشوں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کرنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد یہ شہر میں سب سے زیادہ بارش ہے۔

سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں زیر آب آگئیں، گاڑیاں پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئیں اور کئی علاقوں میں بجلی و پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ مختلف مقامات پر شہری عمارتوں میں پھنس گئے، جنہیں کھڑکیوں کے ذریعے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق استنبول کے یورپی حصے میں واقع علاقے کاغتھانے میں ایک پارک کے قریب سے ایک شخص کی لاش ملی، جبکہ بالات کے علاقے میں 14 سالہ لڑکا پانی میں قدم رکھنے کے دوران بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ اسے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔

شہر کے ایشیائی حصے میں واقع علاقے بیوکوز میں ایک شخص کے کنویں میں گرنے سے ہلاکت کی اطلاع بھی سامنے آئی، تاہم حکام نے فوری طور پر اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حکام کے مطابق پانچ افراد تاحال لاپتا ہیں۔

ترکی کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق بدھ کی رات تک سیلاب کے 1,277 واقعات، لینڈ سلائیڈنگ کے 15 واقعات اور 47 افراد کے پھنسنے کی اطلاعات موصول ہوچکی تھیں۔ بارش کے باعث دو عمارتوں کی چھتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

شدید بارش کے پیش نظر استنبول میں اسکول پیر تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نشیبی علاقوں اور تہہ خانوں میں رہنے والوں کو بھی محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

امدادی ٹیموں، فائر فائٹرز اور بلدیاتی عملے نے مختلف اسکولوں، کھیل کے میدانوں، گیراجوں اور دیگر مقامات سے پانی نکالنے اور کیچڑ صاف کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔

خراب موسم نے فضائی سفر کو بھی متاثر کیا۔ ترکی کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق استنبول ایئرپورٹ آنے والی 43 پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا، جبکہ صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ آنے والی تین پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔ تیز ہواؤں کے باعث صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ پر کچھ وقت کے لیے پروازوں کی روانگی معطل رہی۔

استنبول کے قریبی صوبے سکاریا کے علاقے سپانجا میں ندی کے کنارے واقع دو منزلہ مکان منہدم ہوگیا۔ حکام کے مطابق عمارت کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

صوبہ کوجائیلی کے علاقے گیبزے میں ندی کا پانی کناروں سے باہر نکل آیا اور ایک گاڑی سوار سیلابی ریلے میں بہہ گیا، تاہم امدادی کارکنوں نے رسیوں کی مدد سے اسے بچا لیا۔ اسی صوبے کے علاقے باشیسکلی میں بھی ایک شخص کے سیلابی پانی میں بہہ جانے کے بعد لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے مختلف علاقوں میں ہفتے کے اختتام تک مزید شدید بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

Related posts

سعودی عرب میں 6 میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ، ریاض اور ینبع بھی نشانے پر

مکہ کی مسجد میں مبینہ فحش فعل، بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو سزائے موت دے دی گئی

یمن کے شہر عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا حملہ، 5 افراد ہلاک، 16 زخمی