استعفے کی افواہوں کے درمیان مارکو روبیو ٹرمپ کے دفاع میں سامنے آگئے

واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سلامتی اور طرزِ زندگی کا تحفظ صدر کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔

فلوریڈا کے شہر پام بیچ میں واقع مارالاگو ریزورٹ میں کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس (CPAC) سے خطاب کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے متعلق بحران کو آئندہ حکومت پر چھوڑنے کے بجائے اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق صدر نے ایرانی خطرات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے خلاف اقدامات کا راستہ اختیار کیا، چاہے اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے۔

روبیو کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو امریکا، اس کی اقدار اور طرزِ زندگی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ان خطرات کا سامنا کرنے کا انتخاب کیا کیونکہ ان کے بقول ایران کے عزائم امریکی سلامتی اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔

ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 2028 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کے لیے مارکو روبیو کے عہدے سے مستعفی ہونے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ تاہم، انہوں نے کانفرنس سے خطاب میں استعفے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا۔

روبیو نے ایران سے متعلق امریکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، اس کی عسکری اور علاقائی صلاحیتوں کو محدود کرنا اور امریکی مفادات و اتحادیوں کو لاحق خطرات کم کرنا ہے۔

Related posts

اینکرپرسن ربیعہ احسن کی موت کا معاملہ، گرفتار شوہر کا حادثاتی فائرنگ کا بیان

بلوچستان پولیس کی تفتیش نیشنل بینک ڈکیتی میں مبینہ طور پر ملوث لسبیلہ یونیورسٹی کے طلبہ تک کیسے پہنچی؟

کراچی میں فائرنگ سے پولیس انسپکٹر جاوید ابڑو مارے گئے، اہلیہ زخمی