رپورٹ: حمید سمسور
کوئٹہ اور صوبے کے دیگر شہروں میں ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی گیس کی فی کلو قیمت میں مزید 120 روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد گیس 580 سے 600 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق مائع گیس (ایل پی جی) کی نئی سرکاری قیمت 294 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے، جبکہ ایل پی جی دکانوں پر موجود صارفین نے شکایت کی ہے کہ انہیں سرکاری نرخوں پر گیس دستیاب نہیں ہے۔
بلوچستان ایل پی جی گیس باؤزر ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر عتیق آغا نے پاک ٹوڈے کو بتایا کہ تفتان کے راستے ایل پی جی لانے والی صرف ان گاڑیوں کو اجازت دی جا رہی ہے جنہیں 16 اکتوبر سے پہلے منظوری مل چکی تھی۔ یہ گاڑیاں بھی آہستہ آہستہ پاکستان پہنچ رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سپلائی چین متاثر ہے اور تمام گاڑیوں کو سیکیورٹی فورسز کے قافلے میں سفر کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، جس میں کئی دن لگ جاتے ہیں، جبکہ سینکڑوں گاڑیاں سرحد پر کھڑی ہیں۔
بلوچستان ایل پی جی گیس باؤزر ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر کے مطابق 16 اکتوبر کے بعد آرڈر دینے والی گاڑیوں کو اجازت نہیں دی جا رہی، کیونکہ وزارتِ تجارت پاکستان کی جانب سے ایران سے ایل پی جی کی درآمد کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم سے استثنیٰ کا حکم نامہ تاحال بحال نہیں کیا گیا، جس کے باعث پابندی برقرار ہے۔
عتیق آغا کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان 28 اکتوبر کو سرحد کھولی گئی تھی، تاہم تجارت محدود ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گزشتہ روز لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
