اسلام الدین ساجد
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات، سعودی عرب پر حوثی حملوں اور عالمی تجارت و توانائی کی سلامتی سے متعلق خدشات کے درمیان ترکیہ کے شہر استنبول میں پاکستان سمیت آٹھ اہم علاقائی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کا جمعہ کے روز غیرمعمولی سفارتی اجلاس منعقد ہوا۔
ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے ہم منصب کے ساتھ علاقائی صورت حال، تنازعات کے اثرات اور سفارتی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق، اس نئے مشترکہ فارمیٹ میں وزرائے خارجہ کی یہ پہلی ملاقات تھی۔
اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے شرکت کی۔
یورپی ممالک کے جانب سے فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوئے۔ اس فارمیٹ کو ار فور اور ای فور (R4+E4)
کا نام دیا گیا جس میں چار علاقائی اور چار یورپی ممالک شامل ہیں۔ اس سے قبل پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزراء خارجہ نے مشرق وسطی کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر گفتگو کی اور بعد ازاں یورپی ممالک کے ساتھ وسیع تر اجلاس منعقد کیا
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق، مشترکہ اجلاس میں خلیجی خطے کی تازہ صورت حال، اس کے سماجی اور معاشی اثرات اور امن و استحکام کے لیے سفارتی رابطوں کی فوری ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے شرکا کو کشیدگی کم کرنے، دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے روکنے اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں سے آگاہ کیا۔
جس میں پاکستانی آرمی چیف کے حالیہ دورہ ایران اور وہاں ایرانی قیادت سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کے بارے میں بھی شرکاء کو آگاہ کیا گیا
اجلاس کے اختتام پر تمام وزرائے خارجہ نے اس فارمیٹ میں رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا
امریکا ایران کشیدگی، آبنائے ہرمز اور سعودی عرب کی سلامتی
اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے اثرات توانائی کی ترسیل، سمندری تجارتی راستوں اور عالمی معیشت تک پہنچ رہے ہیں۔
ترکیہ کی جانب سے اجلاس کے لیے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، زیر بحث اہم امور میں فلسطین کی صورت حال، آبنائے ہرمز میں پیش رفت، یمن سے متعلق حالات، روس یوکرین جنگ اور علاقائی و یورپی ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات شامل تھے۔
اس سے پہلے ہونے والے R4 اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی اور مملکت کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی مذمت کی۔
چاروں ممالک نے ریاستی خودمختاری کے احترام اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
پاکستان اور ترکیہ نے سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ بھی اس علاقائی تعاون کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
یورپ میں مہنگائی، مہنگے کرائے اور عوامی احتجاج
استنبول کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب یورپ کے متعدد ممالک میں مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات، کم اجرتوں اور عوامی خدمات پر دباؤ کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں فرانس سمیت مختلف یورپی ممالک میں ہزاروں افراد نے بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگی رہائش، کم اجرتوں اور عوامی خدمات کی صورت حال کے خلاف احتجاج کیا۔ فرانس میں بعض مظاہروں کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ اور کشیدگی کے باعث توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کے خدشات عالمی منڈیوں کے لیے اضافی خطرات پیدا کرتے ہیں۔ توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
تاہم، استنبول اجلاس میں یورپ کے عوامی احتجاج یا مہنگائی کے بارے میں گفتگو تو شاید ہوئی ہوگی لیکن اعلامیہ میں اس بارے کچھ شامل نہیں ہے
ماہرین کے نقطۂ نظر سے اس اجلاس کی اہمیت
