واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے، جبکہ دونوں ممالک کی افواج نے ممکنہ کارروائیوں کی تیاری کے لیے فوجی مشقیں بھی تیز کردی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ممکنہ حملوں کے اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز اور میزائل و ڈرونز کے ذخائر شامل ہیں۔ عہدیدار کے مطابق مختصر مگر شدید فوجی کارروائی ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور تہران کو سفارتی مذاکرات میں رعایتیں دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے رواں ہفتے اسرائیل میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ممکنہ حملوں کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی طیارے عراق کی فضائی حدود میں ممکنہ حملوں کے لیے مشقیں بھی کررہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے رواں ماہ کے آغاز میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ تاہم، رپورٹ میں بیان کردہ منصوبوں اور ممکنہ کارروائیوں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
