پشاور (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس سینئر نائب صدر سینیٹر نور الحق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سمیت دیگر اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر جمہوری قرار دیا گیا۔ اجلاس کے بعد ڈپٹی جنرل سیکرٹری نواز شانگلہ نے اعلامیہ پیش کیا۔
اعلامیے کے مطابق کابینہ نے مؤقف اختیار کیا کہ منتخب صوبائی حکومت کو ہٹانے کی کوشش عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر خان، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور سابق وزیراعلیٰ محمود خان سمیت پارٹی قیادت کی گرفتاریوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
کابینہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی مینڈیٹ پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ اعلامیے میں گورنر کے طرزِ خطاب پر بھی تنقید کی گئی۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق حقوق فراہم کیے جائیں اور ان کے اہلِ خانہ کو فوری رہا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو جواز بنا کر صوبے میں غیر معمولی اقدامات کرنا عوامی مینڈیٹ پر حملے کے مترادف ہے۔ کابینہ نے وفاقی حکومت کے اقدامات کے خلاف صوبے بھر میں پُرامن احتجاج کے لیے پارٹی تنظیموں کو ہدایات جاری کرنے کا اعلان کیا۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی کابینہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی جمہوری حقوق، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
