لاہور (پاک ٹوڈے): مسلم لیگ ن نے پنجاب میں طویل عرصے سے التوا کا شکار بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں باضابطہ طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
صدر مسلم لیگ ن پنجاب رانا ثنااللہ کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں پارٹی عہدیداروں کو صوبے بھر میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔
رانا ثنااللہ نے پارٹی رہنماؤں کو پنجاب کے تمام ڈویژن، اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسل کی سطح پر بھرپور انتخابی مہم چلانے، عوامی رابطے تیز کرنے اور تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں پارٹی کے خالی تنظیمی عہدے جلد از جلد پُر کرنے اور مخلص و دیرینہ کارکنوں کو بلدیاتی انتخابات میں میدان میں اتارنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے دوران نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ میں ہی ہوگا۔
پنجاب میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں مرحلہ وار منعقد ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں منتخب کونسلز نے 2017 میں اپنے عہدے سنبھالے تھے۔ ان بلدیاتی اداروں کی مدت دسمبر 2021 میں ختم ہوگئی تھی، جبکہ آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت نئے انتخابات اپریل 2022 تک ہونا ضروری تھے، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر انتخابات مسلسل تاخیر کا شکار رہے۔
پنجاب حکومت نے 2025 میں نیا بلدیاتی حکومت ایکٹ منظور کیا، جس کے بعد حلقہ بندی کا عمل شروع کیا گیا جو اگست 2026 کے آس پاس مکمل ہوا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اگست 2026 میں صوبائی حکومت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان مرحلہ وار کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
صوبائی کابینہ نے بلدیاتی انتخابات کے لیے 12 ارب 52 کروڑ روپے کا بجٹ بھی منظور کر رکھا ہے۔
اس وقت پنجاب بھر میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انتظامی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں بھی اپنی انتخابی حکمت عملی مرتب کر رہی ہیں۔
مسلم لیگ ن کا تازہ فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس کے تحت پارٹی بلدیاتی سطح پر اپنی تنظیم کو مزید متحرک اور عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنانا چاہتی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہوں گے تاکہ سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات بہتر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
