قاہرہ (پاک ٹوڈے): مصر کی قاہرہ فوجداری عدالت نے منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ کے سنگین الزامات ثابت ہونے پر معروف ٹی وی اینکر اور میڈیا شخصیت سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔
عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ 5 ستمبر 2026 کو جاری کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان ایک منظم مجرمانہ گروہ چلا رہے تھے جو بیرونِ ملک سے مصنوعی منشیات تیار کرنے کا خام مال در آمد کرنے، مقامی سطح پر منشیات تیار کرنے اور پھر انہیں مختلف علاقوں میں سپلائی کرنے میں ملوث تھا۔
39 سالہ سارہ خلیفہ مصر کے ایک معروف پروگرام ”مشن امپاسیبل“ کی میزبانی کرتی رہی ہیں، جس میں عموماً جرائم، سکیورٹی اور لا ئ اینڈ آرڈر سے متعلق موضوعات کا احاطہ کیا جاتا تھا۔
مصری حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 750 کلوگرام سے زائد منشیات، خام مواد، غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ گروہ نے منشیات کی خفیہ تیاری کے لیے دو رہائشی فلیٹس کو باقاعدہ لیبارٹریوں میں تبدیل کر رکھا تھا۔
اس مقدمے میں مجموعی طور پر 28 افراد کو نامزد کیا گیا تھا، جن میں سے عدالت نے 12 ملزمان کو سزائے موت اور 9 کو عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ عدم ثبوت کی بناء پر 7 افراد کو بری کر دیا گیا۔
قانون دانوں کے مطابق سارہ خلیفہ اور سزا یافتہ دیگر افراد کو مصر کی اعلیٰ ترین فوجداری عدالت (سپریم کورٹ/کیسیشن کورٹ) میں اپیل کا قانونی حق حاصل ہے، جس کے باعث موجودہ فیصلہ فوری طور پر حتمی یا ناقابلِ تنسیخ نہیں ہے۔
