اسلام آباد (پاک ٹوڈے): بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود نجی ہسپتال (شفا انٹرنیشنل) کے بجائے راتوں رات پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) منتقل کیے جانے پر ان کے اہلخانہ اور ذاتی معالج نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل میں ماہرین اور ذاتی معالج کی موجودگی میں طبی معائنے کا حکم دیا تھا، تاہم انہیں پمز منتقل کر دیا گیا۔ عظمیٰ خانم کے مطابق پمز کے ڈاکٹروں نے عمران خان کی دائیں آنکھ کا معائنہ کیا جہاں معمولی خون رساؤ (ہیمریج) پایا گیا اور انہیں انجیکشن لگایا گیا۔
دوسری جانب ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ وہ شفا ہسپتال میں تین گھنٹے تک عمران خان کا انتظار کرتے رہے مگر بعد میں انہیں واپس جانے کا کہہ دیا گیا۔
حکومتی موقف پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ سیکیورٹی خدشات اور پی ٹی آئی حوارین کی متوقع آمد کے باعث عمران خان کو شفا کے بجائے پمز لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ماہرین کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا جس کے بعد انہیں طبی طور پر مکمل فٹ قرار دے کر صبح 5 بجے واپس اڈیالہ جیل شفٹ کر دیا گیا ہے۔
