حمید سمسور
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے انکشاف کیا ہے کہ 100 سے زائد پی ایچ ڈی اسکالرز صوبہ چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (بی یو ای ٹی) خضدار کے تیسرے سینٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
گورنر نے ایک جامع اور پرکشش حکمت عملی وضع کرنے پر زور دیا، جس کے ذریعے نہ صرف موجودہ پی ایچ ڈی اسکالرز اور سینئر پروفیسرز کو صوبے میں روکا جا سکے بلکہ صوبے بھر کی سرکاری جامعات میں نئے ماہرینِ تعلیم اور محققین کو بھی راغب کیا جا سکے۔
شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ تجربہ کار اساتذہ کو روکنے اور تعلیمی و تحقیقی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے فوری طور پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ یونیورسٹی کی کارکردگی بہتر بنانے اور طلبہ کو جدید علوم اور تحقیقی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے قابل ماہرین کو اپنے ساتھ وابستہ رکھنا ناگزیر ہے۔
اساتذہ بلوچستان کی جامعات کیوں چھوڑ رہے ہیں؟
پروفیسر محمد انور پانیزئی بلوچستان یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان سے اساتذہ کے جانے کی پہلی وجہ صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال اور غیر یقینی حالات ہیں۔
ان کے مطابق دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر اساتذہ کنٹریکٹ پر ملازمت کرتے ہیں، جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ بلوچستان کی جامعات کے اساتذہ کو ہر سال تنخواہوں کے حصول کے لیے احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ انہیں تین سے چار ماہ تک تنخواہیں اور پنشن نہیں ملتی۔ اس صورتحال کے باعث جب بھی اساتذہ کو صوبے سے باہر روزگار کا موقع ملتا ہے تو وہ وہاں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
