پشاور (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنے لیے سیاسی راستہ خود نکالنا ہوگا، کیونکہ سیاسی اسپیس کسی کے سہارے نہیں ملے گی۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ثبوت کے بغیر الزامات نہیں لگانے چاہئیں، لیکن خیبر پختونخوا میں بھی الزامات کی بنیاد پر ہماری حکومت ختم کردی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتا۔ سوال اٹھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج نافذ کرنے والے کس اختیار کے تحت سڑکوں کا افتتاح کررہے ہیں؟ ان کے بقول پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر ختم کرنے کا ایجنڈا بھی ساتھ لایا گیا ہے۔
شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے لیے سیاسی گنجائش محدود کردی گئی ہے، پارٹی رہنماؤں کے خلاف تھری ایم پی او سمیت مختلف مقدمات درج ہیں اور بیشتر قیادت جیلوں میں ہے، جبکہ باقی رہنماؤں کو بھی قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ہائیکورٹ میں پارٹی رہنماؤں کے مقدمات کی سماعت سے متعلق صورتحال پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں موجود ہے اور اسے پارلیمانی کمیٹیوں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پارٹی کو موجودہ سیاسی حالات میں اپنے لیے راستہ خود تلاش کرنا ہوگا، کیونکہ سیاسی گنجائش کسی دوسرے کی مدد سے حاصل نہیں ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انہیں کنٹینر پر آنے کی دعوت دی تھی۔ تاہم ان کے خیال میں حکومت اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان کچھ وقت کے لیے تلخی پیدا ہوگی، جس کے بعد صورتحال معمول پر آجائے گی۔
عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان سے ملاقات ہونا مثبت بات ہے، کیونکہ اس موقع پر مقدمات سے متعلق مشاورت بھی ہوجاتی ہے۔
